کاروار،31 / مئی (ایس او نیوز) ضلع میں ندیوں سے ریت نکالنے پر لگی پابندی کی وجہ سے ایک طرف تعمیراتی کام کے لئے ریت کی قلت کا سامنا ہے تو دوسری ریت نکالنے اور سپلائی کرنے کے کام سے جڑے ہوئے لوگوں کے لئے روزگار کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔
اب جبکہ بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل کر حکومت کی لگام کانگریس پارٹی کے ہاتھوں میں آ گئی ہے اور بھٹکل - ہوناور ایم ایل اے منکال وئیدیا کو وزارتی قلمدان سونپا گیا ہے تو عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریاستی حکومت کو فوراً ریت نکالنے اور اسے سپلائی کرنے کا لائسنس دوبارہ جاری کرتے ہوئے یہ مسئلہ حل کر دینا چاہیے۔
گرین ٹریبیونل کی طرف سے سی آر زیڈ زمرہ والے علاقوں میں ریت نکالنے کی اجازت نہ دینے کا حکم جاری ہونے کے بعد تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ سے ضلع کاروار، اڈپی اور منگلورو کی ندیوں سے ریت نکالنے پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔ اس کی وجہ سے تینوں اضلاع میں ریت کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے تعلق سے بی جے پی حکومت صرف غور کرتی رہ گئی اور ریت نکالنے کی اجازت دینے کی نوبت ہی نہیں آئی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بازار میں ریت کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے بعض محکمہ جاتی افسران کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر ریت نکالنے اور مہنگی قیمتوں پر فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ قانونی اجازت کے ساتھ نکالی گئی ریت کی قیمت ایک لوڈ کے لئے جہاں دس تا بارہ ہزار روپے تھی وہیں پر غیر قانونی ریت 18 سے 20 ہزار روپئےلوڈ کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے اور وہ مشکل ہی سے دستیاب ہوتی ہے۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے عوام توقع کر رہے ہیں کہ کانگریس کی نئی حکومت اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی اور ریت نکالنے کی اجازت دیتے ہوئے ساحلی علاقے کے عوام کو راحت پہنچائے گی۔